ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بلند شہر اجتماعی عصمت دری معاملے میں اعظم خاں کے تبصرے پر عدالت نے لیا نوٹس

بلند شہر اجتماعی عصمت دری معاملے میں اعظم خاں کے تبصرے پر عدالت نے لیا نوٹس

Mon, 29 Aug 2016 20:49:51    S.O. News Service

نئی دہلی، 29اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے بلند شہر اجتماعی آبروریزی معاملے میں اترپردیش حکومت کے وزیر اعظم خان کے اس مبینہ متنازعہ بیان پر آج نوٹس لیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ماں اور بیٹی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا واقعہ سیاسی سازش ہے۔عدالت عظمی نے معاملے کی تحقیقات اور سماعت عدم اعتمادکی وجہ سے اترپردیش سے باہر کرنے کی درخواست پر خان اور ایس پی حکومت سے جواب مانگا۔یہ سنگین واقعہ 29جولائی کی رات کو پیش آیا جب ہائی وے پر ڈاکوؤں نے نوئیڈا کے ایک خاندان کی گاڑی کو روکا اور بندوق دکھا کر کار میں سے خاتون اور اس کی بیٹی کو نکال کر ان کے ساتھ آبروریزی کی۔جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس سی ناگپن کی بنچ نے سینئر ایڈووکیٹ ایف ایس نریمن کو اس معاملے میں ایمکس کیوری(عدالت دوست) مقرر کیا ہے۔بنچ نے اس معاملے میں منصفانہ اور آزاد تحقیقات پر اونچے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کے بیانات کے ممکنہ اثرات کے سلسلے میں اور اظہاررائے کی آزادی کے سلسلے میں کچھ قانونی سوال کا تعین کئے۔بنچ نے متاثرہ خاندان کے ان خدشات کو نوٹس میں لیا کہ اتر پردیش میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کا امکان نہیں لگتا کیونکہ ریاست کے ایک وزیر نے مبینہ طور پر عوامی بیان دیا تھا کہ یہ ایک سیاسی سازش تھی۔متاثرہ خاندان کی جانب سے ایڈووکیٹ کسلی پانڈے پیروی کر رہے ہیں۔بنچ نے سوال کاتعین کرتے ہوئے کہاکہ جب کوئی متاثرہ کسی شخص یا گروپ کے خلاف عصمت دری،قتل یا ایسے کسی دیگر جرم کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر داخل کرتی ہے تو کیا اعلی عہدے پر بیٹھے کسی شخص کو جرم پر اس طرح کا بیان دینا چاہئے کہ یہ سیاسی سازش کا نتیجہ ہے، جبکہ اس کا جرم سے کوئی لینادینا نہیں ہے۔


Share: